بھٹکل:19/ڈسمبر (ایس او نیوز) حیدرآباد دلسکھ نگرمیں سن 2013 کو ہوئے دہرے بم دھماکہ معاملے میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے بھٹکل کے احمد سدی باپا عرف یاسین بھٹکل سمیت 5 ملزموں کو پھانسی کی سزا کا فیصلہ سنایا ہے جس کے ساتھ ہی یاسین کے پیدائشی شہر بھٹکل میں پولس نے حالات پر کڑی نگرانی رکھی ہے۔
تعلقہ کے حساس علاقوں میں ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھی جارہی ہےکہ کہیں شرپسندعناصر حالات کا غلط فائدہ نہ اٹھائیں۔ اُدھر دوسری طرف پھانسی کی سزا سنائی جانے کے بعد یاسین بھٹکل کے گھروالوں نے این آئی اے عدالت کے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنہیں پہلے سے اسی طرح کے فیصلے کا خدشہ تھا۔اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے یاسین کی والدہ بی بی ریحانہ ، بہن ماریہ ، بھائی عبدالصمد ، چاچا محمد یعقوب نے ایک آواز میں کہاکہ این آئی اے کی عدالت سےاسی طرح کے فیصلے کا خدشہ تھا، لیکن انصاف صرف این آئی اے عدالت تک محدود نہیں ہے، انصاف کے لئے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ صرف نچلی عدالت سے آیا ہے، جس کے بارے میں ہمیں پہلے سے معلوم تھا ۔ عبدالصمد نے بتایا کہ این آئی اے کے جج کے خلاف اُس کے بھائی احمد سدی باپا نے پہلے ہی ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کی ہے کہ متعلقہ جج کو تبدیل کیا جائے، کیونکہ یہ جج پہلے ہی بتاچکا ہے کہ وہ احمد کو پھانسی پر چڑھائے گا۔ مگر ہمیں اعلیٰ عدالتوں پر پورا بھروسہ ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم گھروالے ہر ماہ جب احمد سے ملاقات کرتے تھے تو وہ یہی بات کہتا رہتاتھا کہ جج ہمیں ڈرا دھمکا رہے ہیں،البتہ وہ ہمیں اطمینان اور دلاسہ دیتا تھا کہ متعلقہ عدالت کے فیصلے کے متعلق کسی طرح کی پریشانی میں مبتلا نہ ہوں۔ گھروالوں نے اخبارنویسوں سے کہا کہ وہ پہلے چارج شیٹ کو پڑھ لیں، اُس میں احمد عرف یاسین کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے، اب یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ این آئی اے نے کس ثبوت کی بنیاد پر اتنا بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عبدالصمد کے مطابق این آئی اے کہتی ہے کہ نیپال میں بیٹھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے بم دھماکوں کی تیاری کی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ کام یاسین کو ہی کرنا ضروری نہیں ہے، کوئی بھی انٹرنیٹ کے ذریعے پیغامات ارسال کرسکتاہے۔ 2005-2006سے یاسین کا رابطہ ہم سے منقطع ہوگیا تھا، وہ کہاں گیا کیا کررہاتھا ہمیں اس تعلق سے کوئی جانکاری نہیں تھی۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ پولس نے اس کا انکاؤنٹر کیا ہوگا۔ لیکن 2013میں جب اس کی گرفتاری ہوئی تو ہمیں اس کے زندہ ہونےکی اطلا ع پا کر کچھ اطمینان ہوا۔ اس پر ہمیں مکمل اعتماد ہے وہ بے قصور ہوکر ضرور رہاہوگا۔